Wednesday, 21 April 2021

یہ تیرے مرے ہاتھ

 یہ تیرے مِرے ہاتھ

خوشبو سے بندھے ہاتھ

کچھ بھی نہ کہا اس نے

اور چُوم لیے ہاتھ

وہ چھت سے دِکھاتی ہے

مہندی سے رنگے ہاتھ

ہم دُور نکل آئے

ہاتھوں میں لیے ہاتھ

روشن ہوئے مٹی میں

مٹی سے بھرے ہاتھ

بجُھتی ہوئی شمعوں پر

مُحراب ہوئے ہاتھ


نذیر قیصر

No comments:

Post a Comment