Wednesday, 21 April 2021

عشق میں برباد ہونے کے سوا رکھا نہ تھا

 عشق میں برباد ہونے کے سوا رکھا نہ تھا

غم کو سہنے کے علاوہ کوئی بھی چارہ نہ تھا

یاد رہ رہ کر کسی کی ہے ستاتی رات بھر

صبح ہوتے بھُول جانا یہ تجھے شیوہ نہ تھا

یہ تِری اُلفت مجھے رکھتی ہے بیتابی میں گم

یہ سبھی کو تھی خبر لیکن کوئی چرچا نہ تھا

آئینہ دیکھوں تو کیوں تُو ہی نظر آئے مجھے

بولتا ہے کیا تِرا چہرہ میرے جیسا نہ تھا

دن گزر جاتا ہے دنیا کی مسافت میں مگر

رات ہی اک امتحاں ہے جس کا اندازہ نہ تھا

رات کی تنہائیاں آغوش میں لے کر مجھے

پوچھتی ہیں کیا کبھی تنہائیاں دیکھا نہ تھا

کیا محبت وہ نشہ ہے میں ذرا جانوں نثار

زندگی میں اس طرح پہلے کبھی بہکا نہ تھا


احمد نثار

No comments:

Post a Comment