Wednesday, 21 April 2021

دل والے دل ہار چلے

ترچھی نظر کے وار چلے

دل والے دل ہار چلے

گھر نہ چلے اک نفرت سے

الفت سے سنسار چلے

چاہت کی بیساکھی پر

نفرت کے بیمار چلے

دوست جو باغی ہو جائیں

دشمن پر کیا وار چلے

تم ہی نفرت والو بتاؤ

کب تک یہ تکرار چلے

بیچ بھنور میں کشتئ دل

کیسے بن پتوار چلے

جاتے جاتے کہئے مجاز

کیا جیتے کیا ہار چلے


مجاز امروہوی

No comments:

Post a Comment