Friday, 5 February 2021

تیرے افکار جھوٹے ہیں مرے اشعار فرضی ہیں

 تیرے افکار جھوٹے ہیں مِرے اشعار فرضی ہیں

ہماری زندگی کے سبھی کِردار فرضی ہیں

مریض عشق ہے صاحب دعا کیجئے دعا کیجئے

بہت ممکن ہے بچ جائے، مگر آثار فرضی ہیں

ہماری آب بیتی تھی جسے سن کر کہا تُو نے

بہت پُر  سوز قصے ہیں مگر اے یار فرضی ہیں

کہیں پریاں نہیں رہتیں، نہ کوہِ کاف ہوتا ہے

یہ فرضی ہیں سبھی باتیں، کہانی کار فرضی ہیں

فریبی ہے مِرا چہرہ، میری باتیں فریبی ہیں

مِرے اسلوب جھوٹے ہیں، مِرے پندار فرضی ہیں

نذر ہے نام عاجز کا، تخلص ناز کرتا ہوں

فقیری اصل ہے میری، چُغا دستار فرضی ہیں


نذر حسین ناز

No comments:

Post a Comment