Friday, 4 September 2020

بڑے سلیقے سے بولتا ہے

بڑی محبت سے بات کرتا بڑے سلیقے سے بولتا ہے
وہ شخص جب بھی کسی جگہ پر مرے حوالے سے بولتا ہے
یہ خوش گمانی فقط مجھے ہے یا اس گلی سے گزرنے والی
ہوا کواڑوں سے کھیلتی ہے، دیا دریچے سے بولتا ہے
اکیلے پن کا عذاب کتنا برا ہے تجھ کو خبر نہیں ہے
خدا صحیفے اتارتا ہے کسی بہانے سے بولتا ہے
وہ کھلکھلا کر ہنسا تو مجھ پر کھلا کہ سب کچھ غلط ہوا ہے
مجھے لگا تھا وہ خوش طبعیت مرے بلانے سے بولتا ہے
میں ایک گڑیا کو تم سمجھ کر وہ ساری باتیں کروں گا اس سے
وہ ساری باتیں جو ایک بچہ کسی کھلونے سے بولتا ہے

نذر حسین ناز

No comments:

Post a Comment