ایک چہرہ دکھائی دینے لگا
زخم بھرتا دکھائی دینے لگا
کچھ بھی دکھتا نہیں سوا تیرے
کتنا اچھا دکھائی دینے لگا
پھول کاڑھے تھے اس نے کُرتے پر
اب کہیں جا کے آنکھ والوں کو
ایک اندھا دکھائی دینے لگا
ہم تھے موجود بند کمرے میں
ایک رستہ دکھائی دینے لگا
اس نے ایسے ملایا مٹی میں
ذرہ ذرہ دکھائی دینے لگا
میں نے اپنی زبان کیا کھولی
سب کو خطرہ دکھائی دینے لگا
کوئی رستہ نظر نہ آیا تو
چھت کا پنکھا دکھائی دینے لگا
اب کے تصویر میں ہنسا ایسے
درد ہنستا دکھائی دینے لگا
ندیم راجہ
No comments:
Post a Comment