یہ قید خانہ ملے گا، یا ہتھکڑی ملے گی
جو جتنا بولا اسے سزا بھی بڑی ملے گی
میں اژدھوں سے لڑوں گا پوری بہادری سے
خدائے موسیٰ مجھے بھی ویسی چھڑی ملے گی
میں پھول بھیجوں گا جس جگہ سے ملی محبت
وہ مجھ سے ہو کر خدا کے رستے پہ جا رہا تھا
اسے پتہ تھا کڑی سے کیسے کڑی ملے گی
ازل سے جس میں فقط برا وقت چل رہا ہے
مری کلائی میں تم کو ایسی گھڑی ملے گی
گلاب کیسے لگیں گے خوشبو کہاں سے آۓ
ہمارے گملوں میں صرف مٹی پڑی ملے گی
مجھے تو چھوڑو تم آ کے باغوں کا حال دیکھو
بِنا تمہارے ہر ایک ٹہنی جھڑی ملے گی
ندیم راجہ
No comments:
Post a Comment