Friday, 4 September 2020

ہمارے بستر کی ہر شکن میں اذیتیں ہیں

ہمارے بستر کی ہر شکن میں اذیتیں ہیں
کہ جس طرح سے کسی کفن میں اذیتیں ہیں
تمہیں مبارک جو سانس لیتے ہو پھیپھڑوں سے
میں سانس لوں تو مِرے بدن میں اذیتیں ہیں
بِنا خوشی کے میں ایسے برسوں سے جی رہا ہوں
کہ جیسے عورت کو بانجھ پن میں اذیتیں ہیں
ہمارے کپڑوں میں ہے کہاں پر ہمارا سینہ
ہمارے کرتے کے ہر بٹن میں اذیتیں ہیں

ندیم راجہ

No comments:

Post a Comment