ہمارے بستر کی ہر شکن میں اذیتیں ہیں
کہ جس طرح سے کسی کفن میں اذیتیں ہیں
تمہیں مبارک جو سانس لیتے ہو پھیپھڑوں سے
میں سانس لوں تو مِرے بدن میں اذیتیں ہیں
بِنا خوشی کے میں ایسے برسوں سے جی رہا ہوں
ہمارے کپڑوں میں ہے کہاں پر ہمارا سینہ
ہمارے کرتے کے ہر بٹن میں اذیتیں ہیں
ندیم راجہ
No comments:
Post a Comment