دل چاہتا ہے
غارِ اصحابِ کہف میں جا کر سو جاؤں
جب نیند سے اٹھوں
میرا زمانہ گزر چکا ہو
بازارِ زمانہ میں
میری بات کوئی نہ سمجھتا ہو
مجھے کوئی نہ جانتا ہو
رب سے پوچھوں
بتا، اب کہاں جاؤں
رب کہے
تیرے زمانے اب نہیں رہے
انسان سبھی مر چکے ہیں
صرف ہجوم زندہ ہے
جنون زندہ ہے
تو لوٹ جا
غارِ اصحابِ کہف میں
پھر سے جا کر سو جا
نورالہدیٰ شاہ
No comments:
Post a Comment