Friday, 4 September 2020

مرے بدن سے تجھے خسارے سے کیا ملا ہے

مِرے بدن سے تجھے خسارے سے کیا ملا ہے
سفید ہاتھوں کو یار گارے سے کیا ملا ہے
دھواں، اداسی، ذرا سا پانی اور ایک ملبہ
ہماری آنکھوں کے گوشوارے سے کیا ملا ہے
اگرچہ تُو نے خیال رکھا ہے میرا، لیکن
کسی بھی اندھے کو یار تارے سے کیا ملا ہے
تمہارے ہونٹوں میں سب لکیروں کی سیر کر کے
یہ بات چھوٹی ہے غم تمہارے سے کیا ملا ہے
یقین ہونا کسی بھی رشتے میں لازمی ہے
کسی بھی مُسلم کو گردوارے سے کیا ملا ہے
اے عشق کرنے کے کچھ فضائل بتانے والو
پتا کرو کہ شجر کو آرے سے کیا ملا ہے
تم اپنے بھائی کی سرد مہری پہ رو رہے ہو
بتاؤ یوسف کو بھائی چارے سے کیا ملا ہے

نذر حسین ناز

No comments:

Post a Comment