گھروں مىں بُھوک اور باہر وبا ہے
ىہ کیسا اک عذاب اُترا ہوا ہے
پڑى ہے ٹُوٹ کر آفت یہ کیسى
زمانہ خوف سے سہما ہوا ہے
کہىں پر آکسیجن کى کمى ہے
ہوا کا کال جیسے پڑ گیا ہے
مریضوں کےلیے بستر بھى کم ہیں
نہ ہى تدفین کى کوئى جگہ ہے
تِرا میرا نہىں یہ دُکھ ہے سانجھا
یہ تو اقوامِ کُل کا مسئلہ ہے
بڑھا کر حوصلہ اک دُوسرے کا
ہمیں یہ وقت مُشکل کاٹنا ہے
اٹھا کر ہاتھ سب مانگو دعائیں
دُعا ہى اب تو بس ردِّ بلا ہے
منا لیں آؤ مِل کے اپنے رب کو
جو شاید ہم سے اب رُوٹھا ہُوا ہے
حمیرا نگہت
No comments:
Post a Comment