حق میری محبت کا ادا کیوں نہیں کرتے
تم درد تو دیتے ہو، دوا کیوں نہیں کرتے
کیوں بیٹھے ہو خاموش سرہانے میرے آ کر
یارو! میرے جینے کی دعا کیوں نہیں کرتے
پھولوں کی طرح جسم ہے، پتھر کی طرح دل
جانے یہ حسیں لوگ وفا کیوں نہیں کرتے
ہر بات پرندوں کی طرح اڑتی ہوئی سی
جو بات بھی کرتے ہو سدا کیوں نہیں کرتے
بس مل چکا ثواب، بصورت ہمیں عذاب
اتنی وفا کے بعد جفا کیوں نہیں کرتے
زاہد ہی کہہ رہا تھا پلا کر ہمیں شراب
ممکن ثواب میں بھی خطا کیوں نہیں کرتے
لو دیکھو، حمیدی لب دریا پہ ہے دریا
پر پیاس ہے کب کی یہ پتا کیوں نہیں کرتے
مجیب ظفر انوار حمیدی
No comments:
Post a Comment