Thursday, 17 September 2020

لاکھوں صدمے ڈھیروں غم

لاکھوں صدمے ڈھیروں غم

پھر بھی نہیں ہیں آنکھیں نم

اک مدت سے روئے نہیں

کیا پتھر کے ہو گئے ہم؟

یوں پلکوں پر ہیں آنسو

جیسے پھولوں پر شبنم

ہم اس جنگل میں ہیں جہاں

دھوپ زیادہ، سائے کم

اب زخموں میں تاب نہیں

اب کیوں لائے ہو مرہم


عزم شاکری 

No comments:

Post a Comment