Thursday, 17 September 2020

آنکھ سے کوئی پردہ اٹھا ہی نہیں

 آنکھ سے کوئی پردہ اٹھا ہی نہیں

جو تماشا تھا ہونا، ہوا ہی نہیں

عشق تو بس، وہ پہلے پہل کا تھا

اب تو دل ٹوٹنے کی صدا ہی نہیں

اپنی شرطوں پہ دنیا میں زندہ ہیں لوگ

لگ رہا ہے زمیں پر خدا ہی نہیں

عمر بھر ساتھ رہنے سے کیا فائدہ 

جس کو پایا تھا، وہ تو ملا ہی نہیں

اپنے اندر ہی اب سیر کرتا ہوں میں

مدتوں سے میں باہر گیا ہی نہیں

خود کو ہر شے میں خود آ رہا ہوں نظر

اور کہاں ہوں یہ مجھ کو پتا ہی نہیں

عزم شاکری

No comments:

Post a Comment