آنکھ سے کوئی پردہ اٹھا ہی نہیں
جو تماشا تھا ہونا، ہوا ہی نہیں
عشق تو بس، وہ پہلے پہل کا تھا
اب تو دل ٹوٹنے کی صدا ہی نہیں
اپنی شرطوں پہ دنیا میں زندہ ہیں لوگ
لگ رہا ہے زمیں پر خدا ہی نہیں
عمر بھر ساتھ رہنے سے کیا فائدہ
جس کو پایا تھا، وہ تو ملا ہی نہیں
اپنے اندر ہی اب سیر کرتا ہوں میں
مدتوں سے میں باہر گیا ہی نہیں
خود کو ہر شے میں خود آ رہا ہوں نظر
اور کہاں ہوں یہ مجھ کو پتا ہی نہیں
عزم شاکری
No comments:
Post a Comment