Thursday, 17 September 2020

تو جسے زخم آشنائی دے

تُو جسے زخمِ آشنائی دے

وہ تڑپتا ہوا دکھائی دے

تیری چاہت کے جبرِ پیہم میں

کب سے زنجیر ہوں، رہائی دے

روح کے جنگلوں میں کس کی صدا

جب بھی سوچوں، مجھے سنائی دے

یا قریب آ، رگِ گلو کی طرح

یا پھر اس کرب سے رہائی دے

اس ہجومِ بلا میں کوئی تو

آتشی کی کرن دکھائی دے

کس قدر شور ہے، کہاں سے کوئی

آشنا سی صدا سنائی دے

تیری آنکھوں کے آئینے میں مجھے

اپنی زخمی انا دکھائی دے


پروین فنا سید 

No comments:

Post a Comment