Sunday, 13 September 2020

اگر دشت طلب سے دشت امکانی میں آ جاتے

اگر دشت طلب سے دشت امکانی میں آ جاتے
محبت کرنے والے دل، پریشانی میں آ جاتے
حصار صبر سے جس روز میں باہر نکل جاتا
سمندر خود مِری آنکھوں کی ویرانی میں آ جاتے
اگر سائے سے جل جانے کا اتنا خوف تھا تو پھر
سحر ہوتے ہی سورج کی نگہبانی میں آ جاتے
جنوں کی عظمتوں سے آشنائی ہی نہ تھی ورنہ
جو تھے اہلِ خِرد سب چاک دامانی میں آ جاتے
کسی زردار کی یوں ناز برداری سے بہتر تھا
کسی اجڑے ہوئے دل کی بیابانی میں آ جاتے

عزم شاکری

No comments:

Post a Comment