Sunday, 13 September 2020

کسی چراغ کی آنکھوں میں ڈر نہیں آئے

کسی چراغ کی آنکھوں میں ڈر نہیں آئے
وہ رات ہی نہ ہو جس کی سحر نہیں آئے
میں کائنات کا وہ کم تر و حقیر چراغ
کہ جس کی لو بھی کسی کو نظر نہیں آئے
یہی ہے عشق میں جاناں خراشِ دل کا علاج
اسی کی راہ تکو،۔ جو نظر نہیں آئے
محبتوں کے امیں تھے صداقتوں کے سفیر
وہ لوگ ایسے گئے، لوٹ کر نہیں آئے
دیارِ نوحہ گراں سے گزر ہوا،۔ لیکن
کسی بھی آنکھ میں آنسو نظر نہیں آئے
ہزار شمعیں جلیں اور جل کے بجھ بھی گئیں
ہمارے چاہنے والے مگر نہیں آئے

عزم شاکری​

No comments:

Post a Comment