Friday, 18 September 2020

دریدہ پیرہنوں میں شمار ہم بھی ہیں

 دریدہ پیرہنوں میں شمار ہم بھی ہیں

بہت دنوں سے انا کے شکار ہم بھی ہیں

فقط تمہیں کو نہیں عشق میں یہ در بدری

تمہاری چاہ میں گرد و غبار ہم بھی ہیں

چڑھی جو دھوپ تو ہوش و حواس کھو بیٹھے

جو کہہ رہے تھے شجر سایہ دار ہم بھی ہیں

بلندیوں کے نشاں تک نہ چھو سکے وہ لوگ

جنہیں گماں تھا ہوا پہ سوار ہم بھی ہیں

جو خستہ حالی میں درویش کا مقدر تھی

اسی قبا کی طرح تار تار ہم بھی ہیں


عزم شاکری

No comments:

Post a Comment