Friday, 18 September 2020

خون آنسو بن گیا آنکھوں میں بھر جانے کے بعد

 خون آنسو بن گیا آنکھوں میں بھر جانے کے بعد

آپ آئے تو مگر طوفاں گزر جانے کے بعد

چاند کا دُکھ بانٹنے نکلے ہیں اب اہلِ وفا

روشنی کا سارا شیرازہ بکھر جانے کے بعد

ہوش کیا آیا مسلسل جل رہا ہوں ہجر میں

اک سنہری رات کا نشہ اتر جانے کے بعد

زخم جو تم نے دیا وہ اس لیے رکھا ہرا

زندگی میں کیا بچے گا زخم بھر جانے کے بعد​

شام ہوتے ہی چراغوں سے تمہاری گفتگو

ہم بہت مصروف ہو جاتے ہیں گھر جانے کے بعد

زندگی کے نام پر ہم عمر بھر جیتے رہے

زندگی کو ہم نے پایا بھی تو مر جانے کے بعد


عزم شاکری

No comments:

Post a Comment