قوالی
میری توبہ میری توبہ میری توبہ توبہ
تُو معاف کرے گا میرے سارے گناہ
میری توبہ میری توبہ میری توبہ توبہ
مجھے معلوم ہے مجرم ہوں میں اور تُو میرا حاکم
جبھی تو آج میری آنکھ میں اشکوں کی ہے رِم جِھم
کوئی بندہ تیرے در پر جو آنسو رول دیتا ہے
میرے مولا درِ توبہ تُو اس پر کھول دیتا ہے
تُو ضرور سنے گا میرے دل کی صدا
میری توبہ میری توبہ میری توبہ توبہ
تیرے در پہ میں کیوں نہ سوال کروں، تُو رحیم بھی ہے کریم بھی ہے
میں تو پست ہوں ، میں حقیر بھی ہوں ، تُو بلند بھی ہے تُو عظیم بھی ہے
جو میں جھیل چُکا وہ بہت ہے سزا میری توبہ میری توبہ
غم کا مارا ہوں ، بے سہارا ہوں، ہُوں بُرا یا بھلا تمہارا ہوں
میرے گناہ زیادہ ہیں یا تیری رحمت کریم تُو ہی بتا دے حساب کر کے
میری توبہ میری توبہ میری توبہ توبہ
مجھے کر دے معاف اپنے رسولِ پاکؐ کے صدقے
خطائیں بخش دے میری شاہِ لولاکؐ کے صدقے
میرے مالک دہائی ہے تجھے آلِ پیمبرؐ کی
رہا کر دے غموں سے کربلا کی خاک کے صدقے
اندھیروں میں مجھے تابندگی دے دے میرے مولا
نیا مجھ کو شعورِ زندگی دے دے میرے مولا
میری توبہ میری توبہ میری توبہ توبہ
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment