Friday, 18 September 2020

لکھ دیا اپنے در پہ کسی نے اس جگہ پیار کرنا منع ہے

قوالی


 لکھ دیا اپنے در پہ کسی نے اس جگہ پیار کرنا منع ہے

پیار گر ہو بھی جائے کسی کو اس کا اظہار کرنا منع ہے

ان کی محفل میں جب کوئی جائے پہلے نظریں وہ اپنی جھکائے

وہ صنم جو خدا بن گئے ہیں ان کا دیدار کرنا منع ہے

جاگ اٹھیں گے تو آہیں بھریں گےحسن والوں کو رسوا کریں گے

سو گئے ہیں جو فرقت کے مارے ان کو بیدار کرنا منع ہے

ہم نےکی عرض اے بندہ پرور کیوں ستم ڈھا رہے ہو یہ ہم پر

بات سن کر ہماری وہ بولے ہم سے تکرار کرنا منع ہے

سامنے جو کُھلا ہے جھروکا، کھا نہ جانا قتیل ان کا دھوکہ

اب بھی اپنے لیے اس گلی میں شوقِ دیدار کرنا منع ہے


قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment