قوالی
لکھ دیا اپنے در پہ کسی نے اس جگہ پیار کرنا منع ہے
پیار گر ہو بھی جائے کسی کو اس کا اظہار کرنا منع ہے
ان کی محفل میں جب کوئی جائے پہلے نظریں وہ اپنی جھکائے
وہ صنم جو خدا بن گئے ہیں ان کا دیدار کرنا منع ہے
جاگ اٹھیں گے تو آہیں بھریں گےحسن والوں کو رسوا کریں گے
سو گئے ہیں جو فرقت کے مارے ان کو بیدار کرنا منع ہے
ہم نےکی عرض اے بندہ پرور کیوں ستم ڈھا رہے ہو یہ ہم پر
بات سن کر ہماری وہ بولے ہم سے تکرار کرنا منع ہے
سامنے جو کُھلا ہے جھروکا، کھا نہ جانا قتیل ان کا دھوکہ
اب بھی اپنے لیے اس گلی میں شوقِ دیدار کرنا منع ہے
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment