Friday, 18 September 2020

یہ دل بھی زخم ہے وہ گل بھی گھاؤ رکھتا ہے

یہ دل بھی زخم ہے، وہ گل بھی گھاؤ رکھتا ہے

تمام شہر طلب کا الاؤ رکھتا ہے

شکستہ شاخ ہو تم، بارشوں کو دو نہ صدا

نشیب اب کے غضب کا بہاؤ رکھتا ہے

یہ حادثہ ہے کہ موسم نے کر دئیے یکجا

وگرنہ خار سے گُل کیا لگاؤ رکھتا ہے

دِکھا کے خواب مجھے، نیند سے جگاتا ہے

مجھے بگاڑ کے، اپنا بناؤ رکھتا ہے

وہ معتبر بھی ہمیں کر گیا سپردِ ہوا

یہ مہربان بھی، موجوں کی ناؤ رکھتا ہے

قریب ہے تو قریب آئے، دور رہے تو رہے

یہ کیا کہ پاس بھی ہے اور کھنچاؤ رکھتا ہے

عطا سے بات کرو، چاندنی سی شبنم سی

خنک نظر ہے، مگر، دل الاؤ رکھتا ہے


عطا شاد 

No comments:

Post a Comment