سب سچے جھوٹے ہیں، میں اور دل اور آئینہ
کٹتے جڑتے رشتے ہیں، میں اور دل اور آئینہ
اک مدت سے ایک ہی رُت، اک منظر اور نام بہت
روز تماشا دیکھتے ہیں، میں اور دل اور آئینہ
آگ پہ چھینٹے شبنم کے، سوچ پہ لمحوں کا دھڑکا
سنتے ہیں، چپ رہتے ہیں، میں اور دل اور آئینہ
آئے گا کوئی سنگِ صدا، حرف کا تیشہ گونجے گا
گُنگ کہاں تک رہتے ہیں، میں اور دل اور آئینہ
ہر لمحہ اپنا چہرہ، عکس ہے اپنا ہر سایہ
آئینے سے ڈرتے ہیں، میں اور دل اور آئینہ
ایک دِیے کی جست ہے اور شب کٹنے، پو پھٹے تک
سورج بن کر سوچتے ہیں، میں اور دل اور آئینہ
شاؔد زمانہ دریا ہے، گھٹتا بڑھتا دریا ہے
ہم سب چاند سفینے ہیں، میں اور دل اور آئینہ
عطا شاد
No comments:
Post a Comment