Tuesday, 15 September 2020

آج تک کیسے گزاری ہے یہ اب پوچھتی ہے

آج تک کیسے گزاری ہے یہ اب پوچھتی ہے
رات ٹوٹے ہوئے تاروں کا سبب پوچھتی ہے
تُو اگر چھوڑ کے جانے پہ تُلا ہے، تو جا
جان بھی جسم سے جاتی ہے تو کب پوچھتی ہے
کل مِرے سر پہ مِرا تاج تھا تو سب تھے مِرے
آج دنیا یہ مِرا نام و نسب پوچھتی ہے
میں چراغوں کی لویں تھام کے سو جاتا ہوں
رات جب مجھ سے مِرا حسنِ طلب پوچھتی ہے

عزم شاکری​

No comments:

Post a Comment