آج تک کیسے گزاری ہے یہ اب پوچھتی ہے
رات ٹوٹے ہوئے تاروں کا سبب پوچھتی ہے
تُو اگر چھوڑ کے جانے پہ تُلا ہے، تو جا
جان بھی جسم سے جاتی ہے تو کب پوچھتی ہے
کل مِرے سر پہ مِرا تاج تھا تو سب تھے مِرے
میں چراغوں کی لویں تھام کے سو جاتا ہوں
رات جب مجھ سے مِرا حسنِ طلب پوچھتی ہے
عزم شاکری
No comments:
Post a Comment