Tuesday, 15 September 2020

ایک پودا جو اگا ہے اسے پانی دینا

ایک پودا جو اگا ہے اسے پانی دینا
اپنے آنگن کو نئی رُت کی کہانی دینا
تِری آواز سے جب ٹوٹے مِرے گھر کا سکوت
در و دیوار کو بھی سحر بیانی دینا
پونچھ لینا مِری پلکوں سے لہو کی بوندیں
مِری آنکھوں کو اگر منظر ثانی دینا
کشتیاں دینا مگر اذن سفر سے پہلے
ٹھہرے پانی کو بھی دریا کی روانی دینا
یوں جلوں میں کہ نہ شرمندہ رہوں سورج سے
اور کچھ اور مجھے سوختہ جانی دینا
ریت پر نقش کف پا نہیں رہنے پاتے
اہل صحرا کو کوئی اور نشانی دینا

قیصر شمیم

No comments:

Post a Comment