Tuesday, 15 September 2020

زندگی بھر غمِ حالات پہ رونے والے

زندگی بھر غمِ حالات پہ رونے والے
اب نہیں روتے کسی بات پہ رونے والے
اس نے تو حدِ ملاقات مقرر کر دی
اب ملیں، وقتِ ملاقات پہ رونے والے
ہو ہر اک خواب کی تعبیر ضروری تو نہیں
اے مِرے خواب، خیالات پہ رونے والے
سامنے آیا ہے وہ، دیکھ لو جی بھر کے اسے
ہیں کہاں قیدِ حجابات پہ رونے والے
تُو جو کہہ دے تو نئے کھیل کا آغاز کروں
جیت کر بھی اے مِری مات پہ رونے والے
جس طرح چاند نکل آتا ہے بدلی سے کہیں
ایسے ہنستے ہیں ہر اک بات پہ رونے والے
میں نے سورج کو اندھیروں سے نکالا ہے سحر
دیکھ پائیں گے سیاہ رات پہ رونے والے

شائستہ سحر

No comments:

Post a Comment