Tuesday, 15 September 2020

یہ میرا فیصلہ ہے جو بتانا چاہتا ہوں

یہ میرا فیصلہ ہے جو بتانا چاہتا ہوں
میں اس کے نام کی بستی بسانا چاہتا ہوں
اتر رہی ہے تری ذات مری رگ رگ میں
مگر میں خون کے رشتے نبھانا چاہتا ہوں
تجھے تو علم ہے وحشت کی دوا کیا ہو گی
طبیبا! یار میں وحشت مٹانا چاہتا ہوں
یہ لوگ تجھ سے بچھڑنے کا سبب پوچھتے ہیں
میں اس سوال سے خود کو بچانا چاہتا ہوں
وہ چاند تیری نگاہوں کا کہا مانتا ہے
عجب کہ پھر بھی میں سورج بجھانا چاہتا ہوں
یہ طرزِ عشق مرے سانحے سے چھلکا ہے
وہ سانحہ جو میں سب کو سنانا چاہتا ہوں
میں وہ نصیب کا مارا ہوں جس کا شام ڈھلے
"وجود خود ہی پکارے "میں جانا چاہتا ہوں
تمہارے دل کا کوئی راز ہے ہونا مجھ کو
تمہاری آنکھ میں کوئی ٹھکانا چاہتا ہوں
یہ آسمان مری تاب لانے تو سے رہا
سو اس زمین پہ تکیہ لگانا چاہتا ہوں
یہ میری آنکھ میں پانی کہاں سے اترا ہے
یہ کیوں میں رات قیامت بنانا چاہتا ہوں؟
ہمارے بخت میں اتری ہے وہ جلن باقی
کہ اس جلن میں سبھی کچھ جلانا چاہتا ہوں

وجاہت باقی

No comments:

Post a Comment