یہ میرا فیصلہ ہے جو بتانا چاہتا ہوں
میں اس کے نام کی بستی بسانا چاہتا ہوں
اتر رہی ہے تری ذات مری رگ رگ میں
مگر میں خون کے رشتے نبھانا چاہتا ہوں
تجھے تو علم ہے وحشت کی دوا کیا ہو گی
یہ لوگ تجھ سے بچھڑنے کا سبب پوچھتے ہیں
میں اس سوال سے خود کو بچانا چاہتا ہوں
وہ چاند تیری نگاہوں کا کہا مانتا ہے
عجب کہ پھر بھی میں سورج بجھانا چاہتا ہوں
یہ طرزِ عشق مرے سانحے سے چھلکا ہے
وہ سانحہ جو میں سب کو سنانا چاہتا ہوں
میں وہ نصیب کا مارا ہوں جس کا شام ڈھلے
"وجود خود ہی پکارے "میں جانا چاہتا ہوں
تمہارے دل کا کوئی راز ہے ہونا مجھ کو
تمہاری آنکھ میں کوئی ٹھکانا چاہتا ہوں
یہ آسمان مری تاب لانے تو سے رہا
سو اس زمین پہ تکیہ لگانا چاہتا ہوں
یہ میری آنکھ میں پانی کہاں سے اترا ہے
یہ کیوں میں رات قیامت بنانا چاہتا ہوں؟
ہمارے بخت میں اتری ہے وہ جلن باقی
کہ اس جلن میں سبھی کچھ جلانا چاہتا ہوں
وجاہت باقی
No comments:
Post a Comment