Saturday, 11 September 2021

رات بھر خود کو جگانے کی ضرورت کیا ہے

 رات بھر خود کو جگانے کی ضرورت کیا ہے

ہجر میں اشک بہانے کی ضرورت کیا ہے

زندگی ایک تلخ شے ہے، اسے بھی سمجھو

خواب آنکھوں میں سجانے کی ضرورت کیا ہے

جو بھی کہتا ہے اسے کہنے دو اپنی باتیں

سنگ ہاتھوں میں اٹھانے کی ضرورت کیا ہے

بے وفاؤں سے لگاتے نہیں دل کو اپنے

رنج و غم اور بڑھانے کی ضرورت کیا ہے

جو ہوا ساتھ اسے بھول ہی جاؤ شاہد

داستاں اپنی سنانے کی ضرورت کیا ہے


شاہد رحمان

No comments:

Post a Comment