رات بھر خود کو جگانے کی ضرورت کیا ہے
ہجر میں اشک بہانے کی ضرورت کیا ہے
زندگی ایک تلخ شے ہے، اسے بھی سمجھو
خواب آنکھوں میں سجانے کی ضرورت کیا ہے
جو بھی کہتا ہے اسے کہنے دو اپنی باتیں
سنگ ہاتھوں میں اٹھانے کی ضرورت کیا ہے
بے وفاؤں سے لگاتے نہیں دل کو اپنے
رنج و غم اور بڑھانے کی ضرورت کیا ہے
جو ہوا ساتھ اسے بھول ہی جاؤ شاہد
داستاں اپنی سنانے کی ضرورت کیا ہے
شاہد رحمان
No comments:
Post a Comment