Saturday, 11 September 2021

خواہشوں کے مکاں میں رہتی ہوں

 خواہشوں کے مکاں میں رہتی ہوں

وحشتیں ہیں جہاں میں رہتی ہوں

ڈھونڈتا ہے مجھے تُو کیوں آخر

میں تِرے جسم و جاں میں رہتی ہوں

نام لینے سے جو گریزاں تھا

میں اسی کے بیاں میں رہتی ہوں

تم نے تھاما ہے دستِ ناز مِرا

اب تو میں آسماں میں رہتی ہوں

جس میں عشق و وفا کی ہوں باتیں

میں اسی داستاں میں رہتی ہوں


زارا قاسمی

No comments:

Post a Comment