خواہشوں کے مکاں میں رہتی ہوں
وحشتیں ہیں جہاں میں رہتی ہوں
ڈھونڈتا ہے مجھے تُو کیوں آخر
میں تِرے جسم و جاں میں رہتی ہوں
نام لینے سے جو گریزاں تھا
میں اسی کے بیاں میں رہتی ہوں
تم نے تھاما ہے دستِ ناز مِرا
اب تو میں آسماں میں رہتی ہوں
جس میں عشق و وفا کی ہوں باتیں
میں اسی داستاں میں رہتی ہوں
زارا قاسمی
No comments:
Post a Comment