یہ جانتا ہوں کہ ہے سوگوار تنہائی
مِرے لیے ہے مگر خوشگوار تنہائی
کبھی یہ دل کی تھی چاہت کہ میں رہوں تنہا
رُلا رہی ہے مگر مجھ کو یار تنہائی
اکیلے پن کی تڑپ پوچھیۓ جو تنہا ہیں
کہیں گے وہ بھی کہ ہے دلفگار تنہائی
میں چاہتا رہا مجھ کو ملے تِری قربت
ملی ہے مجھ کو مِرے غمگسار تنہائی
اکیلے پن کی تڑپ تو بھی جان جائے گا
کبھی ہجوم میں اک دن گزار تنہائی
کبھی تو آ کے مِرے دل کو تو سکوں دیدے
کئے ہوئے ہے مجھے بے قرار تنہائی
وطن سے دور کوئی بے وطن ہے پژمردہ
دلوں میں درد لیے بے شمار تنہائی
گئی رُتوں کی مجھے یاد جس گھڑی آئی
سسک سسک کے ہوئی اشکبار تنہائی
ہجومِ درد سے تنگ آ کے کہتا ہے قیصر
چلو نہ ڈھونڈ لیں پھر ایک بار تنہائی
امتیاز قیصر
No comments:
Post a Comment