Saturday, 11 September 2021

کچھ خواب حسرتوں کی چتا میں ہیں رکھ دئیے

 کچھ خواب حسرتوں کی چتا میں ہیں رکھ دئیے

باقی جو بچ گئے وہ انا میں ہیں رکھ دئیے

یہ جان کر بھی مجھ سے محبت نہیں تجھے

کچھ آرزو کے پھول دعا میں ہیں رکھ دئیے

سہہ کر تمام رنج و الم زندگی کے اب

سانسوں کے سب عذاب سزا میں ہیں رکھ دئیے

تیری وفا کی چاہ میں چاہت کے سب گلاب

ارمان دل کے تیری جفا میں ہیں رکھ دئیے

اشکِ رواں کو چھوڑ کے راہِ وفا میں اب

دل کے تمام زخم صدا میں ہیں رکھ دئیے

بس شازیہ نے تیری محبت کے واسطے

سارے کنول وفا کے جفا میں ہیں رکھ دئیے


شازیہ طارق

No comments:

Post a Comment