کچھ خواب حسرتوں کی چتا میں ہیں رکھ دئیے
باقی جو بچ گئے وہ انا میں ہیں رکھ دئیے
یہ جان کر بھی مجھ سے محبت نہیں تجھے
کچھ آرزو کے پھول دعا میں ہیں رکھ دئیے
سہہ کر تمام رنج و الم زندگی کے اب
سانسوں کے سب عذاب سزا میں ہیں رکھ دئیے
تیری وفا کی چاہ میں چاہت کے سب گلاب
ارمان دل کے تیری جفا میں ہیں رکھ دئیے
اشکِ رواں کو چھوڑ کے راہِ وفا میں اب
دل کے تمام زخم صدا میں ہیں رکھ دئیے
بس شازیہ نے تیری محبت کے واسطے
سارے کنول وفا کے جفا میں ہیں رکھ دئیے
شازیہ طارق
No comments:
Post a Comment