پیدا ہر ایک پیچ میں اک بات ہو گئی
کل شب وہ زُلف حرف و حکایات ہو گئی
پہنچے جو بیخودی کے مراتب کو حسن و عشق
دونوں میں رات بھر کو مساوات ہو گئی
میخانے سے چلی تھی کوئی بیخودی کی بات
آ کر حرم میں کشف و کرامات ہو گئی
آئی نہ عاشقی میں فراست بروئے کار
بے کار دولتِ نظریات ہو گئی
کنجِ گل و سمن سے نہ اُٹھے قدح گُسار
جب تک کسی سے طے نہ کوئی بات ہو گئی
اپنے محیط ذات میں طارق جو گُم ہوئے
اک ذاتِ بے کراں سے ملاقات ہو گئی
طارق سعید
No comments:
Post a Comment