Saturday, 11 September 2021

کوئی دل میں چھپی بھڑاس نہ ہو

 کوئی دل میں چُھپی بھڑاس نہ ہو

عشق کرنا اگر یہ راس نہ ہو

بے حیائی کہیں، کہ مجبوری

تن پہ جس کے کوئی لباس نہ ہو

عشق کرتا ہے صبح و شام جو وہ

کب ہے ممکن ادا شناس نہ ہو

سب میں ایسی برابری دیکھی

کون ہے ایسا جو کہ خاص نہ ہو

عشق والا اسے تو کہتے ہیں

جسم پر جس کے کوئی ماس نہ ہو

یہ خیالات ہی نرالے ہیں

ظلم رہ جائے اور ہراس نہ ہو

آنکھ جس کی بھری ہے اشکوں سے

کہتا مجھ سے ہے وہ؛ اداس نہ ہو

عظمتیں پائے وہ فرشتوں سی

جس کے دل میں کوئی بھی آس نہ ہو

چاہتا ہے وہ اس کی محفل میں

مجھ سا کوئی سخن شناس نہ ہو

وہ پلاتا ہے مجھ کو خونِ جگر

کاش ہونٹوں پہ میرے پیاس نہ ہو

لاکھ برباد ہوں مگر پھر بھی

ایسے اطہر کبھی اداس نہ ہو


یعقوب اطہر

No comments:

Post a Comment