Thursday, 5 January 2017

رات چلی ہے جھوم کے راہوں کو تیری چوم کے آ بھی جا

فلمی گیت

رات چلی ہے جھوم کے
راہوں کو تیری چوم کے
آ بھی جا، آ بھی جا

چپکے سے آ کر آنچل تو رکھ دے آنکھوں پر
کھویا ہوا ہوں، چونکا دے مجھ کو چھیڑ کر
شانوں پہ میری، بانہیں ہوں تیری
دیکھوں جو گھوم کر
آ بھی جا، آ بھی جا 
رات چلی ہے جھوم کے

بانہوں میں تیری کتنی حسیں رات ہے
خوابوں میں میری کسی انوکھی بات ہے
مہکی ہوائیں، تجھ کو بلائیں
آنکھوں کو تیری چوم کے
آ بھی جا، آ بھی جا
رات چلی ہے جھوم کے

ایسے نہ دیکھو خود بھول میں جاؤں گی
جھومتی رات میں ملنے نہ پھر میں آؤں گی
تنہا ہوں سوچو، رستہ نہ روکو
ہاتھوں کو میرے چوم کے
آ بھی جا، آ بھی جا
رات چلی ہے جھوم کے
راہوں کو تیری چوم کے
آ بھی جا، آ بھی جا

فیاض ہاشمی

No comments:

Post a Comment