Thursday, 5 January 2017

یہ کاغذی پھول جیسے چہرے مذاق اڑاتے ہیں آدمی کا

فلمی گیت

یہ کاغذی پھول جیسے چہرے مذاق اڑاتے ہیں آدمی کا
انہیں کوئی کاش یہ بتا دے مقام اونچا ہے سادگی کا 

انہیں بھلا زخم کی خبر کیا کہ تیر چلتے ہوئے نہ دیکھا 
اداس آنکھوں میں آرزوؤں کا خون جلتے ہوئے نہ دیکھا
اندھیرا چھایا ہے ان کے آگے حسین غفلت کی روشنی کا
یہ کاغذی پھول جیسے چہرے مذاق اڑاتے ہیں آدمی کا

یہ صحنِ گلشن میں جب گئے ہیں بہار ہی لوٹ لے گئے ہیں 
جہاں گئے ہیں یہ دو دلوں کا قرار ہی لوٹ لے گئے ہیں 
کہ دل دکھانا ہے ان کا شیوا انہیں ہے احساس کب کسی کا
یہ کاغذی پھول جیسے چہرے مذاق اڑاتے ہیں آدمی کا

میں جھوٹ کی جگمگاتی محفل میں آج سچ بولنے لگا ہوں
میں ہو کے مجبور اپنے گیتوں میں زہر پھر گھولنے لگا ہوں
یہ زہر شاید اڑا دے نشہ غرور میں ڈوبی زندگی کا
یہ کاغذی پھول جیسے چہرے مذاق اڑاتے ہیں آدمی کا

یہ کاغذی پھول جیسے چہرے مذاق اڑاتے ہیں آدمی کا
انہیں کوئی کاش یہ بتا دے مقام اونچا ہے سادگی کا 

فیاض ہاشمی

No comments:

Post a Comment