Thursday, 5 January 2017

زندگی بھر دور رہنے کی سزائیں رہ گئیں

زندگی بھر دور رہنے کی سزائیں رہ گئیں
میرے کیسہ میں مِری ساری وفائیں رہ گئیں
نوجواں بیٹوں کو شہروں کے تماشے لے اڑے
گاؤں کی جھولی میں کچھ مجبور مائیں رہ گئیں
بجھ گیا وحشی کبوتر کی ہوس کا گرم خون
نرم بستر پر تڑپتی فاختائیں رہ گئیں
ایک اک کر کے ہوئے رخصت مِرے کنبے کے لوگ
گھر کے سناٹے سے ٹکراتی ہوائیں رہ گئیں
بادہ خانے، شاعری، نغمے، لطیفے، رت جگے
اپنے حصے میں یہی دیسی دوائیں رہ گئیں

راحت اندوری

No comments:

Post a Comment