مِرے خلوص کی گہرائی سے نہیں ملتے
یہ جھوٹے لوگ ہیں سچائی سے نہیں ملتے
وہ سب سے ملتے ہوئے ہم سے ملنے آتا ہے
ہم اس طرح کسی ہرجائی سے نہیں ملتے
پرانے زخم ہیں کافی ، شمار کرنے کو
ہیں ساتھ ساتھ مگر فرق ہے مزاجوں کا
مِرے قدم مِری پرچھائی سے نہیں ملتے
محبتوں کا سبق دے رہے ہیں دنیا کو
جو عید اپنے سگے بھائی سے نہیں ملتے
راحت اندوری
No comments:
Post a Comment