Friday, 6 January 2017

اپنی شاموں سے عطا کر دو بس اک شام مجھے

اپنی شاموں سے عطا کر دو بس اک شام مجھے
کچھ نہیں اس سے سوا دنیا میں اب کام مجھے
دن گمانوں کی عملداری میں کٹ جاتا ہے
رات بھر سونے نہیں دیتے ہیں اوہام مجھے
عشق کے گرد ہمہ دم ہوں مطوف اب میں
کس قدر سہل ہوئی گردشِ ایام مجھے
گریہ کرتی ہوئی دیواریں ہیں گلیاں ویراں
لے کے آۓ ہیں کہاں گھیر کے آلام مجھے
عشق میں نام کمایا ہے کچھ ایسا میں نے
بت چلے آتے ہیں خود کرنے کو پرنام مجھے
زندگی دیر تلک مجھ کو گھسیٹا تم نے
اب ذرا دیر کو کرنے دے تُو آرام مجھے

عارف خواجہ

No comments:

Post a Comment