اپنی شاموں سے عطا کر دو بس اک شام مجھے
کچھ نہیں اس سے سوا دنیا میں اب کام مجھے
دن گمانوں کی عملداری میں کٹ جاتا ہے
رات بھر سونے نہیں دیتے ہیں اوہام مجھے
عشق کے گرد ہمہ دم ہوں مطوف اب میں
گریہ کرتی ہوئی دیواریں ہیں گلیاں ویراں
لے کے آۓ ہیں کہاں گھیر کے آلام مجھے
عشق میں نام کمایا ہے کچھ ایسا میں نے
بت چلے آتے ہیں خود کرنے کو پرنام مجھے
زندگی دیر تلک مجھ کو گھسیٹا تم نے
اب ذرا دیر کو کرنے دے تُو آرام مجھے
عارف خواجہ
No comments:
Post a Comment