اپنے گزشتگان کی، اجداد کی کشش
بڑھنے لگی ہے جنتِ آباد کی کشش
ورنہ تو وقت کھا گیا جسموں کا ماس تک
تھامے ہوۓ ہے ہم کو بس اولاد کی کشش
اک سانحہ جڑا ہے نئے سانحے سے یوں
محور کو چھوڑ کر، نہیں نکلا مدار سے
دوری نے گرچہ کی تھی کم استاد کی کشش
مصروفیت میں بیتا ہے اپنا تمام دن
بڑھنے لگی ہے شام کو ہمزاد کی کشش
الفاظ بھی لکھوں تو وہ ہندسے دکھائی دیں
ہے کس قدر عجیب یہ اعداد کی کشش
عارف خواجہ
No comments:
Post a Comment