مائلِ عشق ہوئے، عشق سے بیزار ہوئے
ایک دو بار نہیں، ہم تو کئی بار ہوئے
چاکدامانی کی بس دیر تھی اے اہلِ جنوں
قصے آلام کے پھر زینتِ اخبار ہوئے
کونپلیں پھوٹی وہیں سے جہاں ٹپکا تھا لہو
دیدنی تھا مِری حیرانی کا عالم اُس دن
جب مِرے دست نِگر بازوئے اغیار ہوئے
سانس لیتے ہوئے تحلیل ہوۓ جاتے ہو
عارفِؔ خستہ تِرے مٹنے کے آثار ہوئے
عارف خواجہ
No comments:
Post a Comment