Thursday, 15 December 2016

یہ کوئی دل تو نہیں ہے کہ ٹھہر جائے گا

یہ کوئی دل تو نہیں ہے کہ ٹھہر جائے گا

وقت اک خواب رواں ہے سو گزر جائے گا

ہر گزرتے ہوئے لمحے سے یہی خوف رہا

حسرتوں سے مِرے دامن کو یہ بھر جائے گا

دل شفق رنگ ہوا ڈوبتے سورج کی طرح

رات آئے گی تو ہر خواب بکھر جائے گا

شدت غم سے ملا زیست کو مفہوم نیا

ہم سمجھتے تھے کہ دل جینے سے بھر جائے گا

چند لمحوں کی رفاقت ہی غنیمت ہے کہ پھر

چند لمحوں میں یہ شیرازہ بکھر جائے گا

اپنی یادوں کو سمیٹیں گے بچھڑنے والے

کسے معلوم ہے پھر کون کدھر جائے گا

یادیں رہ جائیں گی اور یادیں بھی ایسی جن کا

زہر آنکھوں سے رگ و پے میں اتر جائے گا


مشفق خواجہ 

No comments:

Post a Comment