غم ہی لے دے کے مِری دولتِ بیدار نہیں
یہ خوشی بھی ہے میسر کوئی غمخوار نہیں
خود سے بھی توڑ چکا ہوں میں تعلق اپنا
اب مری راہ میں حائل کوئی دیوار نہیں
ایسی سنسان کبھی پہلے نہ تھی ہجر کی رات
دور تک قافلۂ صبح کے آثار نہیں
بات آسان، فراوانیٔ غم نے کر دی
اب مجھے شکوۂ ناکامیٔ اظہار نہیں
زندہ رہ لوں کسی صورت تو بڑی بات ہے یہ
ورنہ جاں سے تو گزرنا کوئی دشوار نہیں
دامِ وحشت سے رہائی نہیں ممکن شاید
ہوں اسیر اپنا بھی صرف اس کا گرفتار نہیں
قصۂ غم بھی وہی میں بھی وہی دل بھی وہی
پر وہ پہلا سا خلوصِ در و دیوار نہیں
مشفق خواجہ
No comments:
Post a Comment