Tuesday, 5 October 2021

دل کے خوابوں میں آتی رہی رات بھر

 دل کے خوابوں میں آتی رہی رات بھر

سُونا آنگن سجاتی رہی رات بھر

خوشبو اس کی تخیل پہ چھائی رہی

یاد اس کی ستاتی رہی رات بھر

ہجر میں یاس و امید کی کشمکش

دل مِرے کو جلاتی رہی رات بھر

دیکھا سوتے ہوئے اس کی تصویر کو

خواب میں گنگناتی رہی رات بھر

چودھویں کا اگرچہ تھا نکلا بدر

تیرگی مسکراتی رہی رات بھر

میری سوچوں میں طفلانِ تھر کی نثار

زندگی بلبلاتی رہی رات بھر

اپنی نادانی پر روٹھا تھا ایک بار

مجھ کو ماں پھر مناتی رہی رات بھر

ماں سے اک دن کہا؛ نیند آتی نہیں

لوری مجھ کو سناتی رہی رات بھر

آس کا ہم وہ روشن رکھیں گے دیا

تھی ہوا جو بجھاتی رہی رات بھر

ہجر کی رات خوابوں میں آتی رہی

دوری وہ بھی مٹاتی رہی رات بھر

چاند اپنے ہی چھت پر نکلتا رہا

چاندنی دل جلاتی رہی رات بھر

دیکھا پہلو بدل کر کئی بار ہی

یاد مڑ مڑ کے آتی رہی رات بھر

میں تھا، تنہائی اور یاد تیری کی مہ

جام مجھ کو پلاتی رہی رات بھر

پتلی حالت غزل کی جو دیکھی نثار

فیض کی یاد آتی رہی رات بھر


نثار آثم

No comments:

Post a Comment