Tuesday, 5 October 2021

دل پیار کے رشتوں سے مکر بھی نہیں جاتا

دل پیار کے رشتوں سے مکر بھی نہیں جاتا

شاکی ہے مگر چھوڑ کے در بھی نہیں جاتا

ہم کس سے کریں شعلگیٔ مہر کا شکوہ

اے ابر گریزاں! تُو ٹھہر بھی نہیں جاتا

اس شہر انا میں جو فسادات نہ چھڑتے

تو پیار کا یہ شوق سفر بھی نہیں جاتا

وہ فہم و فراست کا دِیا ہاتھ میں لے کر

اس دورِ شدد سے گزر بھی نہیں جاتا

اس ایک کی رسی کو اگر تھام کے رہتے

پھر اپنی دعاؤں کا اثر بھی نہیں جاتا

یہ زیست کے لمحے ہیں ولی قیمتی ہیرے

کیوں کوئی بڑا کام تو کر بھی نہیں جاتا


ولی مدنی

No comments:

Post a Comment