Tuesday, 5 October 2021

نہ جنوں جائے گا کبھی میرا

نہ جنوں جائے گا کبھی میرا

یار ہے غیرت پری میرا

دل نہ لے اے صنم برائے خدا

کچھ بہلتا ہے اس سے جی میرا

اس کا حیران ہوں جو کہتا ہے

دیکھ لے منہ نہ آرسی میرا

اب نہیں دل کو تاب فرقت کی

دم نکلتا ہے اے پری میرا

لذتِ قتل کیا کہوں قاتل

چاٹتی ہے لہو چھُری میرا

جانِ جاں ذکر کر نہ جانے کا

دم نکل جائے گا ابھی میرا

غنچۂ گُل تو ہنس کے کہتا ہے

مُنہ چڑھانے لگی کلی میرا

اب کی فُرقت میں گر رہا جیتا

دیکھیے گا نہ مُنہ کبھی میرا

بے نشاں ہوں مثال عنقا کی

نام اے عرش! تو سہی میرا


میر کلو عرش

میر حسن عسکری

No comments:

Post a Comment