Saturday, 10 September 2022

اپنے مطلب ہی تلک جب رابطے رہ جائیں گے

 اپنے مطلب ہی تلک جب رابطے رہ جائیں گے

رشتوں میں بھی دوستو! فاصلے رہ جائیں گے

اس قدر سُرعت سے گَر گِرتی رہے گی یہ وفا

پھر محبت کے فقط کچھ تذکرے رہ جائیں گے

گرچہ یہ عالم ہے فانی، ہو گا سب اک دن فنا

پھر بھی تیری یاد کے جلتے دِیے رہ جائیں گے

آج گر آنکھوں کے ڈورے گھول کر دو گے نہ تم

تیری ساقی! سر کی ٭سوں، ہم بِن پیۓ رہ جائیں گے

نفرتیں بھی جسم و جاں کے رابطے تک ہیں نثار

سارے جھگڑے پھر دھرے کے ہی دھرے رہ جائیں گے


نثار آثم

٭سَوں؛ پنجابی زبان کا لفظ جس کے معنی قسم کے ہیں۔

No comments:

Post a Comment