Friday, 6 October 2023

جن پر تری نگاہ پڑی وہ سنور گئے

 جن پر تری نگاہ پڑی وہ سنور گئے

جن سے تِری نگاہ پھری وہ بکھر گئے

اس دور پر ملال میں آئے گی کیا ہنسی

خنداں لبی کے یار زمانے گزر گئے

منزل تمام عمر نہیں مل سکی انہیں

رستے میں پا کے چھاؤں کہیں جو ٹھہر گئے

آلامِ زندگی میں مزہ زندگی کا ہے

وہ کیا جیئیں گے جو غمِ دوراں سے ڈر گئے

خودداری و ضمیر و وفا جن کی مر گئی

وہ لوگ اپنی موت سے پہلے ہی مر گئے

آشفتگانِ عشق کا عالم نہ پوچھیے

نکلے تِری طلب میں تو واپس نہ گھر گئے

دونوں جہاں میں ہیں وہی سرخرو اثر

دار و رسن سے ہنستے ہوئے جو گزر گئے


اثر بہرائچی

No comments:

Post a Comment