اونچی اونچی نادیدہ سی دیواروں کے ڈھانے میں
دیر لگائی عمر بِتائی بگڑی بات بنانے میں
آتی جاتی لہروں کی شوریدہ سری کا شکوہ کیا
ریت پہ لکھی تحریروں کی مرضی تھی مٹ جانے میں
تم آؤ تو جنگل بولے دیواروں سے گیت اُگیں
ہنستے گاتے پھول کھلیں اور پھول بھی کس ویرانے میں
قطرہ قطرہ درد بہا اور کرچی کرچی یاد چبھی
خواب گرا تھا ہاتھ سے شاید بس یونہی انجانے میں
کیسے کیسے زندہ منظر روندے گئے پامال ہوئے
ظالم اب تو دیر لگے گی پھر سے شہر بسانے میں
بھید بھرے اس افسانے کا جانے کیا انجام ہوا
جان لگا دی ہم نے جس کا اک کردار نبھانے میں
عمرِعزیز کی آخری شام نے دستک دے کر پوچھا ہے
کیسی گزری الجھی گرہیں کھولنے اور لگانے میں
گلناز کوثر
No comments:
Post a Comment