Saturday, 14 November 2020

رات گہری ہے ہجر موسم ہے

 رات گہری ہے ہجر موسم ہے

چاند اترا نہیں ہے آنگن میں

منتظر کب سے ہے مرا تکیہ

اور میں راہ دیکھتی ہوں تری

خواب بھیجو نا

مجھ کو سونا ہے

یوں کرو آج چاند کی صورت

میری آنکھوں میں عکس ہو جاؤ

ہجر منجدھار کو کنارہ کرو

آج شب خود ہی تم چلے آؤ


کنول حسین

No comments:

Post a Comment