Saturday, 14 November 2020

مجھ کو مت روک محبت کے نگر جانے دے

 مجھ کو مت روک محبت کے نگر جانے دے

اپنی مرضی سے میں آیا ہوں ادھر جانے دے

ایسے بےچین نہیں رکھتے ہیں دیوانوں کو

چین سے جینے نہیں دینا تو مر جانے دے

طعنہ مت دے، جو ترا دوست محبت سے ڈرے

اچھے ہوتے ہیں کئی ڈر، اسے ڈر جانے دے

حضرتِ عشق! خدا واسطے صحرا کو نہ بھیج

وہ مِرا ہو نہ سکا تو مجھے گھر جانے دے

زیست کی ریل کو پابندِ سفر یوں مت کر

جو جہاں، جیسے اترتا ہےِ اتر جانے دے

مت جلا دیپ بہاروں کے تسلی دے کر

موسمِ ہجر ان آنکھوں میں ٹہر جانے دے

رونے دھونے سے بدلتے نہیں حالات میاں

زندگی جیسے گزرتی ہےِ گزر جانے دے

روح نکلے تو سرِ آب ابھرتا ہے بدن

اپنی فرقت میں مجھے تو بھی سنور جانے دے


عبید ثاقب

No comments:

Post a Comment