مجھ کو مت روک محبت کے نگر جانے دے
اپنی مرضی سے میں آیا ہوں ادھر جانے دے
ایسے بےچین نہیں رکھتے ہیں دیوانوں کو
چین سے جینے نہیں دینا تو مر جانے دے
طعنہ مت دے، جو ترا دوست محبت سے ڈرے
اچھے ہوتے ہیں کئی ڈر، اسے ڈر جانے دے
حضرتِ عشق! خدا واسطے صحرا کو نہ بھیج
وہ مِرا ہو نہ سکا تو مجھے گھر جانے دے
زیست کی ریل کو پابندِ سفر یوں مت کر
جو جہاں، جیسے اترتا ہےِ اتر جانے دے
مت جلا دیپ بہاروں کے تسلی دے کر
موسمِ ہجر ان آنکھوں میں ٹہر جانے دے
رونے دھونے سے بدلتے نہیں حالات میاں
زندگی جیسے گزرتی ہےِ گزر جانے دے
روح نکلے تو سرِ آب ابھرتا ہے بدن
اپنی فرقت میں مجھے تو بھی سنور جانے دے
عبید ثاقب
No comments:
Post a Comment